دل تو بچہ ہے جی

 

 

 

یہ گز شتہ گنا ہو ں کی سز ا تھی یا آ ئی ہماری قضا  تھی ، جو ا س ا و کھلی میں سر د یا – پچھلے د و سا ل کی جا ں فشا نی تو ایک رام کہا نی ، عبث سنا نی ، نئے دور کا آ غاز ہے، نئی راہیں ، کھو لے با نہیں ۔

،د و سا ل محض کتابوں کی دنیا تھی، مرض تھی  ،مریض نہ تھا طب تھا ، طبیب نہ تھا – تیسرا سال کیا شروع ہوا ، مریض ہی مریض ، چہار سو طبیب، انجکشن اور ادویات اور نہ جانے کیا کیا الا بلا۔

ہر وقت اس ماحول میں رہنے کا ہی شا ید اثر ہو کہ ہم کبھی کبھی لیٹے ہوئے اپنی ٹانگ کو ہلا جلا کر دیکھ لیتے ہیں کہ درست حالت میں ہے یا نہیں – اس طرح وقتاً فوقتاً ہم اپنے سارے ہی اعضا کو ہلا جلا کر دیکھ لیتے ہیں مبادا کسی عضو میں تغیر آ گیا ہو – اور دو ایک بار تو ہم نے ہتھو ڑا مار مار کر اپنے جوڑوں کو بھی خو ب

اچھی طرح سے پرکھہ لیا ہے اور اپنی تسلی کر لی ہے ، اب ہم بلا خوف و خطر چلتے پھرتے ہیں – اس میں ایک بار غلط بھی ہوا تھا- ہتھو ڑا ذرا  زور  سے مار دیا تھا اور قریب میں بھا ئی جان بھی بیٹھے تھے – باقی تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے- مزید بر آ ں کہ ہما ری ان حرکات و سکنات کو دیکھ کر گھر والوں کو دو ایک بار ہماری ذہنی کیفیت پر شک بھی گزر چکا ہے ۔

کالج جانا اور جا کے نہ جانا تو ننھے ڈاکٹر کا معمول بن چکا ہے – شوخیوں اور چہچہا ہٹوں کے اس دیس میں کہیں سے سنجیدگی بھی ٹپکتی ہے – اور یہ سنجید گی اس وقت بے بسی اور لا چارگی میں بدل جاتی ہے جب کوئی مریض اس سے اپنی مرض بیان کرے – مریض سادہ دل ہوتا ہے ،وہ بیمار ہوتا ہے لا چار ہوتا

ہے – اور یہ ننھا ڈاکٹر بھی اسی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے- واللہ یہ ننھا ڈاکٹر مریض سے  ذرا بھی ذیادہ اس مرض کو نہیں جانتا ، واللہ نہیں جانتا – پھر کیو نکر لوگ اس سے امیدیں لگائیں ، کیونکر اس کو دکھڑے سنائیں ، کیونکر اس کو ستائیں – اس ننھے ڈاکٹر کو مرض نہ سنائیں ، بلکہ دو چار سنائیں – اور اگر دوبارہ آپ کے پاس

آئے تو بار بار سنائیں ۔

امسال کالج اور اسپتال کے درمیان ایک کشمکش ہے – اس کشمکش کی وجہ ہماری سمجھ سے  بالا ہے – بہر حال کیفیت یہ ہے کہ لیکچر ہال میرے پیچھے ہے تو وارڈ میرے آگے ، مریض مجھے کھینچے ہے تو طبیب مجھے روکے – یہ

لیکچر ہال والے طبیب شکلیں بدلتے ہیں – کبھی پیا، کبھی جیا اور کبھی مادام-بہر حال دونوں کے درمیان مخاصمت اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب سے ہمارا وارڈ میں آنا جانا ہوا ہے – دن میں ڈیڑھ گھنٹہ ہم وارڈ میں اور پانچ گھنٹے کالج میں گزارتے تھے اس پر وارڈ والے ہم سے ناراض تھے – اب ہم شام کو وقت لگا کر وارڈ

والوں کو منا لیتے ہیں ، اور رات کو گھر چلے جاتے ہیں – اگلے روز پھر یہی کھچ کھچ ۔

اور یہ وارڈ میں حسیناوُں کے بن سنور کر آنے پر اور تجلیاں دکھانے پر پابندی ہونی چاہئے- مانا کہ ہمارا پیشہ سنجیدہ ہے ، اور مریضوں کی بپتا بھی لائق شنید ہے ، پر دل تو بچہ ہے – اور صرف ہمارا ہی نہیں کئی مریضوں کا دل بھی بچہ

ہے – پھر یہ نہ کہیں کہ خبر نہ ہوئی ۔

ادھر ننھی ڈاکٹر حسینا کی مریض پر نظر پڑی نہیں اور ادھر ،مریض کی شامت آئی نہیں – میک اپ کی سات تہوں میں چھپی شیر ایسے تیز دانت ، چکور ایسے تیز کان ، عقابی نگاہیں ، پتلی بانہیں ، زلفیں لہرا ئیں – ایسی چیز توبھلے چنگے آدمی کی طرف بڑھے تو اسے دنیا کی ہر آزمائش اس کے سامنے ہلکی اور ہیچ لگے – مریض تو پھر مریض ہے ، دل بھی بچہ ہے- عذاب پر یقین

پختہ ہوتا ہے ۔

Advertisements